آج برصغیر کے نامور عالم دین غفران مآب کی دو سو ویں برسی ہے
غفران مآب کا اصل نام سید دلدار علی نقوی تھا اور وہ غفران مآب کے لقب سے مشہورتھے ۔ آپ برصغیر کے معروف شیعہ عالم، مجتہد اور فقیہ تھے۔ آپ کا شمار پاک و ہند میں مذہب اثنا عشریہ کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے والے علما میں ہوتا ہے اسی لئے آپ کو ہندوستان میں مجدّد الشریعہ کا لقب دیا گیا۔ ہندوستان کے علما میں اخباریوں کے مقابلے میں آپ پیش پیش تھے اور اسی وجہ سے آپ کو برصغیرمیں اصولی مکتب کا بانی اور مؤسس بھی سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے دینی علوم کے حصول کے سلسلے میں عراق اور ایران کا بھی سفر کیا۔ آپ کو برصغیر میں سب سے پہلے نماز جمعہ قائم کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ مختلف علوم میں آپ کی کئی تالیفات بھی ہیں جن میں منتہی الافکار، مسکن القلوب، حسام الاسلام، دعائم الاسلام، آثارۃ الاحزان و شہاب ثاقب زیادہ اہم تصنیفات ہیں۔۔
آیت اللہ سید دلدار علی نقوی ولد محمد معین نقوی سنہ 1166 ھ میں لکھنؤ سے قریب واقع قصبہ نصیر آباد میں پیدا ہوئے۔آپ کی تاریخ ولادت معین تو نہیں لیکن کتاب ورثۃ الانبیاء میں دی گئی تصویر کے مطابق تاریخ ولادت 17 ربیع الثانی
1166 ھ ہے۔آپ کے والد بھی ہندوستان کے معروف علما میں شمار ہوتے تھے۔آپ کا نسب 22 واسطوں سے امام علی النقیؑ سے ملتا ہے۔ تاریخ لکھنؤ کے مطابق سید دلدار علی کو 1235ھ میں ان کی وفات کے بعد امجد علی شاہ نے غفران مآب کہنا اور لکھنا شروع کیا اس وقت سے وہ غفران مآب کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کے اجداد میں سے نجم الدین پہلے شخص ہیں جو ایران کے شہر سبزوار سے سلطان محمود غزنوی کے سپہ سالار مسعود غازی کی مدد کیلئے ہندوستان آئے اور لکھنؤ سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر جای عیش نامی جگہ کو اپنا مسکن قرار دیا جو بعد جایس کے نام سے مشہور ہو گئی۔ آپ کے اجداد میں سے سید زکریا نے تباک پور یا پتاک پور کو اپنے قبضے میں لیا اور اس کا نام اپنے جد نصیر الدین کے نام سے نصیر آباد رکھ دیا۔
اودھ کے حاکم غازی الدین حیدر شاہ کی حکومت کے دوران 1235 ھ کے ماہ رجب کی 19 ویں شب بمطابق 3 مئی 1820 ء کو لکھنؤ میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ اور لکھنؤ میں اپنے تعمیر کردہ امام بارگاہ دار التعزیہ میں دفن ہوئے جسے آج کل امام باڑا غفران مآب کہا جاتا ہے۔
غفران مآب کا اصل نام سید دلدار علی نقوی تھا اور وہ غفران مآب کے لقب سے مشہورتھے ۔ آپ برصغیر کے معروف شیعہ عالم، مجتہد اور فقیہ تھے۔ آپ کا شمار پاک و ہند میں مذہب اثنا عشریہ کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے والے علما میں ہوتا ہے اسی لئے آپ کو ہندوستان میں مجدّد الشریعہ کا لقب دیا گیا۔ ہندوستان کے علما میں اخباریوں کے مقابلے میں آپ پیش پیش تھے اور اسی وجہ سے آپ کو برصغیرمیں اصولی مکتب کا بانی اور مؤسس بھی سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے دینی علوم کے حصول کے سلسلے میں عراق اور ایران کا بھی سفر کیا۔ آپ کو برصغیر میں سب سے پہلے نماز جمعہ قائم کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ مختلف علوم میں آپ کی کئی تالیفات بھی ہیں جن میں منتہی الافکار، مسکن القلوب، حسام الاسلام، دعائم الاسلام، آثارۃ الاحزان و شہاب ثاقب زیادہ اہم تصنیفات ہیں۔۔
آیت اللہ سید دلدار علی نقوی ولد محمد معین نقوی سنہ 1166 ھ میں لکھنؤ سے قریب واقع قصبہ نصیر آباد میں پیدا ہوئے۔آپ کی تاریخ ولادت معین تو نہیں لیکن کتاب ورثۃ الانبیاء میں دی گئی تصویر کے مطابق تاریخ ولادت 17 ربیع الثانی
1166 ھ ہے۔آپ کے والد بھی ہندوستان کے معروف علما میں شمار ہوتے تھے۔آپ کا نسب 22 واسطوں سے امام علی النقیؑ سے ملتا ہے۔ تاریخ لکھنؤ کے مطابق سید دلدار علی کو 1235ھ میں ان کی وفات کے بعد امجد علی شاہ نے غفران مآب کہنا اور لکھنا شروع کیا اس وقت سے وہ غفران مآب کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کے اجداد میں سے نجم الدین پہلے شخص ہیں جو ایران کے شہر سبزوار سے سلطان محمود غزنوی کے سپہ سالار مسعود غازی کی مدد کیلئے ہندوستان آئے اور لکھنؤ سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر جای عیش نامی جگہ کو اپنا مسکن قرار دیا جو بعد جایس کے نام سے مشہور ہو گئی۔ آپ کے اجداد میں سے سید زکریا نے تباک پور یا پتاک پور کو اپنے قبضے میں لیا اور اس کا نام اپنے جد نصیر الدین کے نام سے نصیر آباد رکھ دیا۔
اودھ کے حاکم غازی الدین حیدر شاہ کی حکومت کے دوران 1235 ھ کے ماہ رجب کی 19 ویں شب بمطابق 3 مئی 1820 ء کو لکھنؤ میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ اور لکھنؤ میں اپنے تعمیر کردہ امام بارگاہ دار التعزیہ میں دفن ہوئے جسے آج کل امام باڑا غفران مآب کہا جاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment